Saturday, 18 December 2021

اک شہر ناسپاس کا نوحہ ہے اور میں

 اک شہرِ نا سپاس کا نوحہ ہے اور میں

اب صبح و شام وسعتِ صحرا ہے اور میں

امید و انتظار کا وقفہ ہے اور میں

دل ہے وہ نیم باز دریچہ ہے اور میں

پھر نکہتِ صبا کے تعاقب کا ہے جنوں

پھر دل لگی کا ایک وسیلہ ہے اور میں

تم نے یہ کس مقام پہ چھوڑا ہے میرا ساتھ

کس کس پہ چارہ سازی کا دھوکہ ہے اور میں

حالات پُر سکون، نہ ماحول سازگار

پروردگار! تیرا سہارا ہے اور میں

اللہ! ایک وقت میں کس کس کو دوں جواب

وہ ہیں، جنونِ شوق ہے، دنیا ہے اور میں


عبداللہ خالد

No comments:

Post a Comment