Saturday, 18 December 2021

نگاہیں نیچی رکھتے ہیں بلندی کے نشاں والے

 نگاہیں نیچی رکھتے ہیں بلندی کے نشاں والے

اٹھا کر سر نہیں چلتے زمیں پر آسماں والے

تقید حبس کا آزادیاں دل کی نہیں کھوتا

قفس کو بھی بنا لیتے ہیں گلشن آشیاں والے

نہیں ہے رہبریٔ منزل عرفان دل آساں

بھٹک جاتے ہیں اکثر راستے سے کارواں والے

زمیں کی انکساری بھی بڑا اعجاز رکھتی ہے

جبیں سا ہو گئے خشکی پہ بحر بیکراں والے

کسی دن گرم بازار عقیدت ہو تو جانے دو

لگائیں گے مرے سجدوں کی قیمت آسماں والے

اجل کہتے ہیں جس کو نام ہے کمزور ہی دل کا

اسے خاطر میں کیوں لائیں حیات جاوداں والے

ہمیں طرفہؔ کی لے سے کیوں نہ ہو عرفان دل حاصل

سبک نغمے سناتے ہی نہیں ساز گراں والے


طرفہ قریشی

No comments:

Post a Comment