Saturday, 18 December 2021

باتیں ہیں واعظوں کی عذاب و ثواب کیا

 باتیں ہیں واعظوں کی عذاب و ثواب کیا

دو دن کی زندگی میں حساب و کتاب کیا

چاہی وفائے وعدہ، تو پایا جواب کیا

ہاں کہیۓ تو یہ آپ نے دیکھا ہے خواب کیا

دل میں غضب کے جوش ہیں توبہ کی خیر ہو

کرتی ہے دیکھیۓ یہ شبِ ماہتاب کیا

یہ سب سہی کہ زلزلہ ہے تا فلک، مگر

شوخی تو اپنی دیکھ مِرا اضطراب کیا

اس نے تو جو لکھا سو لکھا پر غضب یہ ہے

اک ایک پوچھتا ہے کہ آیا جواب کیا

اچھا گمان و وہم ہمارے غلط سہی

کہیۓ تو کہتی ہے نِگہِ پُر حجاب کیا

اے ہمنشیں! بھلا وہ اگر سن کے حال دل

کہہ دیں کہ سب غلط ہے پھر اس کا جواب کیا

کرتے ہیں لوگ واعظ و مائل پہ طعن کیوں

پیتا نہیں جہان میں کوئی شراب کیا


مائل دہلوی

No comments:

Post a Comment