Saturday, 18 December 2021

یاس و غم رنج و الم تنہائیاں اب کے برس

 یاس و غم رنج و الم تنہائیاں اب کے برس

میری قسمت میں رہیں ناکامیاں اب کے برس

روشنی سورج کی آنکھوں پر ہے منظر دھوپ ہیں

لگ رہی ہیں صورتیں پرچھائیاں اب کے برس

آئینے میں دیکھ کر خود کو نہ تم ہونا اُداس

آئینوں میں پڑ گئیں ہیں جھائیاں اب کے برس

دیکھنا ہو گا ستم یہ بھی زباں بندی کے بعد

کاٹ لی جائیں گی سب کی اُنگلیاں اب کے برس

خُشک سالی تو نہیں ہے شہر میں محور مگر

ابر کب برسائیں گے اللہ میاں اب کے برس


محور نوری

No comments:

Post a Comment