Saturday, 18 December 2021

نئی بارش کے آنے تک زمیں پیاسی رہے گی

 نئی بارش کے آنے تک زمیں پیاسی رہے گی

زمانے پھر زمانے تک زمیں پیاسی رہے گی

نشیبوں میں چُھپے دریاؤں سے کہتا رہوں گا

فقط کائی اُگانے تک زمیں پیاسی رہے گی

زمیں پیاسی تھی یہ دلدل کی رُت آنے سے پہلے

سو اب دلدل ہٹانے تک زمیں پیاسی رہے گی

شِکم کی آگ کی خاطر گھروں سے جانے والو

تمہارے لوٹ آنے تک زمیں پیاسی رہے گی

پرندوں کو ڈرانے کا کہا تھا کس نے شوکت

سو ان کے چہچہانے تک زمیں پیاسی رہے گی


شوکت ہاشمی

No comments:

Post a Comment