نئی بارش کے آنے تک زمیں پیاسی رہے گی
زمانے پھر زمانے تک زمیں پیاسی رہے گی
نشیبوں میں چُھپے دریاؤں سے کہتا رہوں گا
فقط کائی اُگانے تک زمیں پیاسی رہے گی
زمیں پیاسی تھی یہ دلدل کی رُت آنے سے پہلے
سو اب دلدل ہٹانے تک زمیں پیاسی رہے گی
شِکم کی آگ کی خاطر گھروں سے جانے والو
تمہارے لوٹ آنے تک زمیں پیاسی رہے گی
پرندوں کو ڈرانے کا کہا تھا کس نے شوکت
سو ان کے چہچہانے تک زمیں پیاسی رہے گی
شوکت ہاشمی
No comments:
Post a Comment