Saturday, 18 December 2021

دکھ کی پرچھائیں

 دکھ کی پرچھائیں


بے حسی کی دبیز چادریں

سارے احساس سو گئے

اور میں

اپنی سوچوں سے ہو کے بے پردہ

اپنی آنکھوں کی ساری پرچھائیوں کو

دیکھتی ہوں

دھندلی پرچھائیوں کو دیکھتی ہوں

میری تقدیر کی ندی پہ چلی

دکھ کی لہروں پہ

ناؤ آنکھوں کی

کب کنارے پہ جا کے پہنچے گی

دکھ کی لہروں پہ ناؤ آنکھوں کی


محمودہ غازیہ

No comments:

Post a Comment