دکھ کی پرچھائیں
بے حسی کی دبیز چادریں
سارے احساس سو گئے
اور میں
اپنی سوچوں سے ہو کے بے پردہ
اپنی آنکھوں کی ساری پرچھائیوں کو
دیکھتی ہوں
دھندلی پرچھائیوں کو دیکھتی ہوں
میری تقدیر کی ندی پہ چلی
دکھ کی لہروں پہ
ناؤ آنکھوں کی
کب کنارے پہ جا کے پہنچے گی
دکھ کی لہروں پہ ناؤ آنکھوں کی
محمودہ غازیہ
No comments:
Post a Comment