Wednesday, 8 December 2021

حسین آئے نظر ساری کائنات مجھے

 حسین آئے نظر ساری کائنات مجھے

سرابِ کوچہ نوردی سے دے نجات مجھے

فریبِ رنگ سے خیرہ ہیں یوں مِری آنکھیں

نہ دن ہی دن نظر آئے، نہ رات رات مجھے

اِدھر عروسِ سخن منتیں کرے میری

اُدھر صدائیں لگاتے ہیں حادثات مجھے

قیام کا ہو سبب، اور میں گزر جاؤں

صدائیں دیتا رہے تیرا التفات مجھے

حصارِ جسم سے باہر نکل کے یہ سمجھا

کوئی بھی کرب نہیں تھا بجز حیات مجھے


عبداللہ خالد

No comments:

Post a Comment