آنسوؤں کا حساب لگتی ہے
زندگانی عذاب لگتی ہے
میری آنکھوں سے دیکھ تو وہ کلی
موسموں کا شباب لگتی ہے
جس کو گنتے ہیں سب گناہوں میں
وہ محبت ثواب لگتی ہے
وقت جو بھی سوال کرتا تھا
زیست ان کا جواب لگتی ہے
جس تمنا کو سینت رکھا تھا
وہ مقدس کتاب لگتی ہے
مہناز بنجمن
No comments:
Post a Comment