Wednesday, 8 December 2021

اسے تو خواب کسی اور کے سہانے لگے

 اسے تو خواب کسی اور کے سہانے لگے

ہمارے دل سے نکلتے جسے زمانے لگے

ہمارے دل میں نئے خوف سر اٹھانے لگے

پرندے جب بھی کہیں گھونسلے بنانے لگے

جنہیں پناہ دی ہم نے وہی بچا کے نظر

ہمارے گھر میں نئے راستے بنانے لگے

ہماری کم نگہی پہ وہ خود بھی حیراں تھا

ہم اپنا جان کے جس کو گلے لگانے لگے

ہر ایک چہرہ کھلا ہے گلاب کی صورت

یہ کیسے رنگ نئے بارشوں میں آنے لگے


تاشی ظہیر

No comments:

Post a Comment