کوئی جنت تو کوئی قربِ خدا مانگتا ہے
تیرا درویش مگر، تیری رضا مانگتا ہے
اس کی نظریں ہیں تِرے پاس کی کرسی پہ جمی
صاف ظاہر ہے کہ پہلو میں جگہ مانگتا ہے
ایسی لذت تِرے دھوکے نے عطا کی ہے اسے
اب اگر مانگتا کچھ ہے تو دغا مانگتا ہے
گرچہ واقف ہے اسیری کی اذیت سے مگر
پَر کٹا پھر تیرے پنجرے کی ہوا مانگتا ہے
بس کرو بخیہ گرو میری تو عادت ہے کہ میں
ایسا وحشی ہوں جو زخموں کی قبا مانگتا ہے
ہڑبڑا کر اسے کہتا ہوں کہ؛ اللہ حافظ
جب کوئی مجھ سے کبھی میرا پتہ مانگتا ہے
تُو نے لوگوں کے کہے پر مجھے دھتکار دیا
تُو نے پوچھا ہی نہیں مجھ سے کہ کیا مانگتا ہے
ایک وحشت جو عطا مجھ کو ہوئی ہے سو میاں
کوئی تو ہے جو مِرے حق میں دعا مانگتا ہے
دل ملوث تھا اگر تیرگی لانے میں اویس
خوف اب کیا ہے اسے، کیوں یہ ضیا مانگتا ہے
اویس احمد ویسی
No comments:
Post a Comment