Saturday, 20 November 2021

در و دیوار ایسے دیکھتے ہیں

 در و دیوار ایسے دیکھتے ہیں

غذا کو جیسے بھوکے دیکھتے ہیں

میں اپنے سر پہ پتھر مارتا ہوں

مجھے حیرت سے شیشے دیکھتے ہیں

اسے دیکھیں تو گونگے بولتے ہیں

اُسے سن لیں تو اندھے دیکھتے ہیں

ہماری بے بسی پہ بار ہا ہم

تِری تصویر ہنستے دیکھتے ہیں

تِرے چہرے کو آنکھیں مانگتی ہیں

تِرے سر کو یہ شانے دیکھتے ہیں

لگی ہے آگ میری آستیں کو

بڑی حسرت سے اپنے دیکھتے ہیں

بلاتا ہے تجھے چشموں کا پانی

تجھے گاؤں کے رستے دیکھتے ہیں

اب اِن آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے ہم

تِری آنکھوں کے دیکھے، دیکھتے ہیں

پتا ہے وہ نہیں مانے گی ویسی

مگر ماتھا رگڑ کے دیکھتے ہیں


اویس احمد ویسی

No comments:

Post a Comment