Saturday, 20 November 2021

مٹی کے علاوہ ہیں کہاں ہم سے کہیں اور

 مٹی کے علاوہ ہیں کہاں ہم سے کہیں اور

افلاک نشیں اور ہیں ہم خاک نشیں اور

یہ کس کی سرائے ہے شب و روز جہاں سے

اک جائے مسافر تو اک آ جائے مکیں اور

تجھ حسن مکمل میں قیامت کی کشش ہے

یوسف تو ہزاروں ہیں مگر تجھ سا نہیں اور

میں جان کی بازی بھی لگا دوں اے زمانے

گر ڈھونڈ کے لا دے تو محمدﷺ سا امیں اور

راجس کی طبیعت پہ عجب تیرا اثر ہے

رہتا ہوں کہیں اور میں ہوتا ہوں کہیں اور


بوٹا خان راجس

No comments:

Post a Comment