Saturday, 20 November 2021

فقط دو چار سانسوں کے سہارے پر پڑا تھا

 فقط دو چار سانسوں کے سہارے پر پڑا تھا

میں اک ارضِ تنفس کے کنارے پر پڑا تھا

ہمارے چل رہے تھے ہجر سے اچھے مراسم

وگرنہ، وصل تو اک استخارے پر پڑا تھا

محبت کی تمہارے بعد کوشش رائیگاں تھی

خسارہ ہی مجھے پیہم خسارے پر پڑا تھا

مِرا ہر عضو ٹھنڈے موسموں تک آ گیا، پر

یہ دل اب بھی کہیں عزمی شرارے پر پڑا تھا


عزم الحسنین عزمی

No comments:

Post a Comment