فقط دو چار سانسوں کے سہارے پر پڑا تھا
میں اک ارضِ تنفس کے کنارے پر پڑا تھا
ہمارے چل رہے تھے ہجر سے اچھے مراسم
وگرنہ، وصل تو اک استخارے پر پڑا تھا
محبت کی تمہارے بعد کوشش رائیگاں تھی
خسارہ ہی مجھے پیہم خسارے پر پڑا تھا
مِرا ہر عضو ٹھنڈے موسموں تک آ گیا، پر
یہ دل اب بھی کہیں عزمی شرارے پر پڑا تھا
عزم الحسنین عزمی
No comments:
Post a Comment