Saturday, 20 November 2021

جو ہو سکے تو لوٹ آ

جو ہو سکے تو لوٹ آ


 انا یہ کہتی ہے ان سے کہہ دو

دل ہمارا سنبھل چکا ہے

وقت ہمارا بدل چکا ہے

کہیں تم واپس نہ لوٹ آنا

دل یہ کہتا ہے ان سے کہہ دو

ابھی وقت ہے جو ٹلا نہیں

پتہ تک بھی ہِلا نہیں

میری چاہتوں کا سلسلہ 

اسی جگہ پر ہے رکا ہوا 

جو ہو سکے تو لوٹ آ

جو ہو سکے تو لوٹ آ


مسرت جبین زیبا

No comments:

Post a Comment