Saturday, 20 November 2021

کب کھلے گا کہ فلک پار سے آگے کیا ہے

 کب کھلے گا کہ فلک پار سے آگے کیا ہے

کس کو معلوم کہ دیوار سے آگے کیا ہے

ایک طرہ سا تو میں دیکھ رہا ہوں، لیکن

کوئی بتلائے کہ دستار سے آگے کیا ہے

ظلم یہ ہے کہ یہاں بکتا ہے یوسفِ بے دام

اور نہیں جانتا بازار سے آگے کیا ہے

سر میں سودا ہے کہ اک بار تو دیکھوں جا کر

سرِ میدان سجی دار سے آگے کیا ہے

جس نے انساں سے محبت ہی نہیں کی تابش

اس کو کیا علم کہ پندار سے آگے کیا ہے


تابش کمال

No comments:

Post a Comment