Saturday, 20 November 2021

وصل کو ہجر کی دوا سمجھے

 وصل کو ہجر کی دوا سمجھے

ہائے یہ آج کل کے نا سمجھے

ایک بچے کی توتلی باتیں

تم نہ سمجھے تو اور کیا سمجھے

میں تِرے مسئلے میں پڑ گیا ہوں

اب مِرے مسئلے خدا سمجھے

ایک آزر نے دست کاری کی

لوگ پتھر کو دیوتا سمجھے

چند مصرعے گڑھے غزل کہہ لی

اور خود کو بہت بڑا سمجھے

اک مثلث کے تین کونے ہیں

بیچ میں دائرہ ہے کیا سمجھے


شبیر احرام

No comments:

Post a Comment