پرانا ہے یہ غم تازہ نہیں ہے
تجھے اس غم کا اندازہ نہیں ہے
ہمیشہ سے جو سہتی آ رہی ہوں
مِری غلطی کا خمیازہ نہیں ہے
نہ دیکھا مڑ کے شل ہونے کے ڈر سے
کسا کس کس نے آوازہ نہیں ہے
یہ شہرِ ذات ہے باہر کی جانب
کھلے جو، اس میں دروازہ نہیں ہے
ہیں کاجل کی جگہ آنکھوں میں آنسو
مِرے چہرے پہ بھی غازہ نہیں ہے
مسافت کی جمی ہے دھول اس پر
بدن میرا تر و تازہ نہیں ہے
عذرا ناز
No comments:
Post a Comment