Saturday, 20 November 2021

پرانا ہے یہ غم تازہ نہیں ہے

 پرانا ہے یہ غم تازہ نہیں ہے

تجھے اس غم کا اندازہ نہیں ہے

ہمیشہ سے جو سہتی آ رہی ہوں

مِری غلطی کا خمیازہ نہیں ہے

نہ دیکھا مڑ کے شل ہونے کے ڈر سے

کسا کس کس نے آوازہ نہیں ہے

یہ شہرِ ذات ہے باہر کی جانب

کھلے جو، اس میں دروازہ نہیں ہے

ہیں کاجل کی جگہ آنکھوں میں آنسو

مِرے چہرے پہ بھی غازہ نہیں ہے

مسافت کی جمی ہے دھول اس پر

بدن میرا تر و تازہ نہیں ہے


عذرا ناز

No comments:

Post a Comment