اِک سفر کے لیے یہ دُکھ بھی اُٹھانے پڑے تھے
میں چلا آیا، میرے خواب سَرھانے پڑے تھے
دوستی نے مجھے محسوس کِیا تھا پھر بھی
زندہ رہنے کے لیے دوست بنانے پڑے تھے
یہ جو اب دیکھ رہے ہو میرے ہاتھوں کا ہنر
اس کی اُجرت میں مجھے ہاتھ کٹانے پڑے تھے
لوحِ دل پر اُسے تحریر میں لانے کے لیے
جانے کس کس کے مجھے نام مٹانے پڑے تھے
جیب میں کچھ نہ مِلا اور مجھے اِس کے سِوا
میری تسبیح کے ٹوٹے ہوئے دانے پڑے تھے
اِک اُسے دوست بنانے کے لیے دنیا میں
کیسے کیسے مجھے ہمدرد گنوانے پڑے تھے
اِک نظر دیکھا اُسے سب نے میرے ساتھ اختر
پھر وہ سب لوگ مجھے ہوش میں لانے پڑے تھے
اختر عبدالرزاق
No comments:
Post a Comment