Tuesday, 9 February 2021

سب طرح کے حالات کو امکان میں رکھا

 سب طرح کے حالات کو امکان میں رکھا

ہر لمحہ اسے سوچ میں وجدان میں رکھا

ہجرت کی گھڑی ہم نے تیرے خط کے علاوہ

بوسیدہ کتابوں کو بھی سامان میں رکھا

مجھ کو مِری قامت کے مطابق بھی جگہ دی

یہ پھول اٹھا کر کبھی گلدان میں رکھا

اک عمر گزاری نئے آہنگ سے، لیکن

اجداد کی اقدار کو بھی دھیان میں رکھا

اک روز سیاہ رات ہتھیلی پہ سجا کر

صحرا نے قدم خطۂ گنجان میں رکھا

ہونٹوں کو سدا رکھا تبسم سے عبارت

اک زہر بجھا تیر بھی مسکان میں رکھا


افتخار شفیع

No comments:

Post a Comment