Tuesday, 9 February 2021

کہکشاں راہگزر ہو یہ ضروری تو نہیں

 کہکشاں راہ گزر ہو یہ ضروری تو نہیں

زندگی عیش بسر ہو یہ ضروری تو نہیں

اُس کی خاموش نظر ہو یہ ضروری تو نہیں

خَمِ ابرو میں اثر ہو یہ ضروری تو نہیں

ہم میں بھی کوئِی گہر ہو یہ ضروری تو نہیں

کوئی ہم سا بھی مگر ہو یہ ضروری تو نہیں

مُندمل زخمِ جگر ہو یہ ضروری تو نہیں

چارہ گر تجھ میں ہنر ہو یہ ضروری تو نہیں

تشنگی جامِ حذر ہو یہ ضروری تو نہیں

"سب پہ ساقی کی نظر ہو یہ ضروری تو نہیں"


اسد قریشی

No comments:

Post a Comment