کہکشاں راہ گزر ہو یہ ضروری تو نہیں
زندگی عیش بسر ہو یہ ضروری تو نہیں
اُس کی خاموش نظر ہو یہ ضروری تو نہیں
خَمِ ابرو میں اثر ہو یہ ضروری تو نہیں
ہم میں بھی کوئِی گہر ہو یہ ضروری تو نہیں
کوئی ہم سا بھی مگر ہو یہ ضروری تو نہیں
مُندمل زخمِ جگر ہو یہ ضروری تو نہیں
چارہ گر تجھ میں ہنر ہو یہ ضروری تو نہیں
تشنگی جامِ حذر ہو یہ ضروری تو نہیں
"سب پہ ساقی کی نظر ہو یہ ضروری تو نہیں"
اسد قریشی
No comments:
Post a Comment