Tuesday, 9 February 2021

احساس کی دولت کا دروازہ کھلا رکھنا

 احساس کی دولت کا دروازہ کھلا رکھنا

انسان کی عظمت کا دروازہ کھلا رکھنا

راہوں میں محبت کی تقاضا ہے وفا کا

ایفائے محبت کا دروازہ کھلا رکھنا

جو لوگ یہ نفرت کی دیواریں کھڑی کریں

تم دل میں اخوت کا دروازہ کھلا رکھنا

جب کفر کی یلغاریں آ جائیں تیری جانب

تلوار شجاعت کا دروازہ کھلا رکھنا

خالی نہ کوئی جائے در سے تِرے اے طالب

ایوان سخاوت کا دروازہ، کھلا رکھنا


طالب ہاشمی

No comments:

Post a Comment