احساس کی دولت کا دروازہ کھلا رکھنا
انسان کی عظمت کا دروازہ کھلا رکھنا
راہوں میں محبت کی تقاضا ہے وفا کا
ایفائے محبت کا دروازہ کھلا رکھنا
جو لوگ یہ نفرت کی دیواریں کھڑی کریں
تم دل میں اخوت کا دروازہ کھلا رکھنا
جب کفر کی یلغاریں آ جائیں تیری جانب
تلوار شجاعت کا دروازہ کھلا رکھنا
خالی نہ کوئی جائے در سے تِرے اے طالب
ایوان سخاوت کا دروازہ، کھلا رکھنا
طالب ہاشمی
No comments:
Post a Comment