سائے سے تیز دھوپ میں آنے نہیں دِیا
تُو نے کوئی بھی خواب جلانے نہیں دیا
ہم کو تو روشنی سے محبت تھی اس قدر
دل کا چراغ ہم نے بُجھانے نہیں دیا
کہنا بہت ہی چاہا تھا ہم نے بھی حالِ دل
کج رائیوں نے اس کی سُنانے نہیں دیا
ہم نے تو ساتھ رہنے کا وعدہ کیا، مگر
عمرِ رواں نے ساتھ نبھانے نہیں دیا
ہر آن مجھ کو تھاما ہے ماں کی دعاؤں نے
کس کس جگہ پہ ساتھ دُعا نے نہیں دیا
حُسنِ خیالِ یار کی تتلی سنبھال کر
بینا خُوشی کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا
روبینہ شاہین بینا
No comments:
Post a Comment