Tuesday, 9 February 2021

میرے جیسا اس دنیا میں ہو سکتا ہے کون

 میرے جیسا اس دنیا میں ہو سکتا ہے کون

جیسے میں نے خود کو ڈھویا ڈھو سکتا ہے کون

دھل جاتے ہیں اک دن آخر جیسے بھی ہوں داغ

من کا میل اور میلی چادر دھو سکتا ہے کون

پورا چاند اور جگمگ تارے یادوں کی بارات

اس موسم میں مخمل پر بھی سو سکتا ہے کون

خوابوں کی اک بستی جس میں سب ہوں خوش اوقات

اس بستی کو آسانی سے کھو سکتا ہے کون

مٹی کا پانی سے رشتہ شاید ہے کمزور

ورنہ کشت جاں میں کانٹے بو سکتا ہے کون


امجد شہزاد

No comments:

Post a Comment