Friday, 20 February 2026

خوشی ہو یا کہ غم کوئی ہمیشہ ساتھ چلتا ہے

 خوشی ہو یا کہ غم کوئی ہمیشہ ساتھ چلتا ہے

تمہاری یاد کا ننھا فرشتہ ساتھ چلتا ہے

وفاداری نبھانے کا ہنر اس سے کوئی سیکھے

کٹے ہیں سارے پر، پھر بھی پرندہ ساتھ چلتا ہے

میں چاہوں بھی تو جُھٹلا نہ سکوں گا تیری اُلفت کو

ابھی تک تیری اُلفت کا وہ تحفہ ساتھ چلتا ہے

نہیں معلوم آساں اس قدر ہو گی مسافت بھی

جب اُنگلی تھام کر راہوں پہ بیٹا ساتھ چلتا ہے

اگر تم نیک نیت ہو، اگر تم حق شناسا ہو

ہوائیں پُوچھ کر چلتی ہیں دریا ساتھ چلتا ہے

میں کلمہ گو ہوں اوروں کی بنسبت اس لیے شاید

مِرے ہمراہ نیکی کا فرشتہ ساتھ چلتا ہے

سفر جیون کا قائم ہے امین ان دو سہاروں پر

بزرگوں کی دُعائیں اور دلاسہ ساتھ چلتا ہے


عنایت امین

No comments:

Post a Comment