خوشی ہو یا کہ غم کوئی ہمیشہ ساتھ چلتا ہے
تمہاری یاد کا ننھا فرشتہ ساتھ چلتا ہے
وفاداری نبھانے کا ہنر اس سے کوئی سیکھے
کٹے ہیں سارے پر، پھر بھی پرندہ ساتھ چلتا ہے
میں چاہوں بھی تو جُھٹلا نہ سکوں گا تیری اُلفت کو
ابھی تک تیری اُلفت کا وہ تحفہ ساتھ چلتا ہے
نہیں معلوم آساں اس قدر ہو گی مسافت بھی
جب اُنگلی تھام کر راہوں پہ بیٹا ساتھ چلتا ہے
اگر تم نیک نیت ہو، اگر تم حق شناسا ہو
ہوائیں پُوچھ کر چلتی ہیں دریا ساتھ چلتا ہے
میں کلمہ گو ہوں اوروں کی بنسبت اس لیے شاید
مِرے ہمراہ نیکی کا فرشتہ ساتھ چلتا ہے
سفر جیون کا قائم ہے امین ان دو سہاروں پر
بزرگوں کی دُعائیں اور دلاسہ ساتھ چلتا ہے
عنایت امین
No comments:
Post a Comment