آنکھ ٹپکائے نا لہو دل کا
فائدہ کچھ تو غم کے حاصل کا
دن بھکاری کی آرزو کی طرح
رات کشکول جیسے سائل کا
کس کو نظم حیات نے مارا
شور زنداں میں ہے سلاسل کا
ذہن خالی ہے بانجھ عورت سا
جسم گو آئینہ مقابل کا
زیست تھی اک ستم مسیحا کا
موت احسان میرے قاتل کا
تنویر وصفی
No comments:
Post a Comment