بیٹھا سینے میں جھانکتا ہے کیا؟
دل کے اندر بھی راستہ ہے کیا؟
پیچھے مڑ مڑ کے دیکھنے والے
کوئی روزن سے دیکھتا ہے کیا؟
عشق الفت سے آگے کی شے ہے
سوچنا کیا تھا، سوچتا ہے کیا؟
تتلی تھوڑی ہے ، یہ پتنگا ہے
جلنے دے اس کو روکتا ہے کیا؟
دیکھ کے رک گیا ہے لمحہ بھر
مرنے والے کو جانتا ہے کیا؟
محمد رضا نقشبندی
No comments:
Post a Comment