Saturday, 21 February 2026

اس کو ملے گی درد کی دولت جہان سے

 اس کو ملے گی درد کی دولت جہان سے

گزرے نہ کوئی میری طرح امتحان سے

میرے خدا مجھے تو زمیں پر اتار دے

گھبرا گیا ہے دل مرا اونچی اڑان سے

ایسا نہ ہو کہ کرب سے دیواریں رو پڑیں

زیادہ نہ بات کیجیے سُونے مکان سے

ملتی ہیں کتنی روٹیاں محنت کی دھوپ سے

پوچھے کوئی یہ کھیت میں جا کر کسان سے

اب تک حویلیوں میں مرا ذکر خیر ہے

رشتہ جڑا ہوا ہے ابھی خاندان سے

 گزرے گی رات کیسے کہ دن تو گزر گیا

پڑھتا ہوں روز شام کا اخبار دھیان سے

منزل کی جستجو میں بھٹک جاؤ نہ کہیں

ثروت چراغ لے کے نکلنا مکان سے


ثروت زیدی بھوپالی

No comments:

Post a Comment