اس کو ملے گی درد کی دولت جہان سے
گزرے نہ کوئی میری طرح امتحان سے
میرے خدا مجھے تو زمیں پر اتار دے
گھبرا گیا ہے دل مرا اونچی اڑان سے
ایسا نہ ہو کہ کرب سے دیواریں رو پڑیں
زیادہ نہ بات کیجیے سُونے مکان سے
ملتی ہیں کتنی روٹیاں محنت کی دھوپ سے
پوچھے کوئی یہ کھیت میں جا کر کسان سے
اب تک حویلیوں میں مرا ذکر خیر ہے
رشتہ جڑا ہوا ہے ابھی خاندان سے
گزرے گی رات کیسے کہ دن تو گزر گیا
پڑھتا ہوں روز شام کا اخبار دھیان سے
منزل کی جستجو میں بھٹک جاؤ نہ کہیں
ثروت چراغ لے کے نکلنا مکان سے
ثروت زیدی بھوپالی
No comments:
Post a Comment