دیکھے گا کوئی خاک یہ ملبہ وجود کا
کس کو کھنڈر ملے گا مِری باش و بود کا
الجھا ہوا خدا بھی ہے دام دوام میں
ہے سلسلہ حدود سے باہر قیود کا
اک عمر کی بسی ہوئی خوشبو نکل گئی
اعلان کر رہا ہے تعفّن وجود کا
پیراہن بدن کی تنگی عبث نہیں
یہ مرحلہ ہے مِری نمو کی نمود کا
تجدید کر رہی ہیں قدامت کی جدتیں
ہر انقلاب نو ہے مجدد جمود کا
روز حساب اجرت کار حیات ہے
یا قرض جاں پہ کوئی تقاضا ہے سود کا
سید مبارک شاہ ہمدانی
No comments:
Post a Comment