گزشتہ لفظوں کے معبدوں میں قدیم لہجے پڑے ہوئے ہیں
ابھی زباں کے موہنجو داڑو میں کچھ صحیفے پڑے ہوئے ہیں
یہاں نشیب و فراز کیسا،۔ جو بھاگنا ہے تو بھاگنا ہے
ہماری قسمت ہمارے سائے ہمارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں
خیال رستوں پہ چلتے چلتے جنازے گِرنے لگے زمیں پر
کسی نے بس اتنا کہہ دیا تھا زمیں پہ سِکّے پڑے ہوئے ہیں
سنا ہے شہروں سے کچھ ہواؤں نے آج جنگل کا رخ کیا ہے
گلوں کی رنگت اڑی ہوئی ہے، پرند سہمے پڑے ہوئے ہیں
خطِ گدا سے نہ کوئی اٹھا،۔ صفِ صدا سے نہ کوئی نکلا
جہاں گِرے تھے گِرے ہوئے ہیں جہاں پڑے تھے پڑے ہوئے ہیں
نگاہِ شب کی نظارگی میں بس اتنا منظر بچا ہے اکبر
گزرنے والے گزرچکے ہیں گلی میں شیشے پڑے ہوئے ہیں
حسنین اکبر
No comments:
Post a Comment