Saturday, 7 February 2026

گلے بازی کے لیے ملک میں مشہور ہیں ہم

 زعفرانی کلام


گلے بازی کے لیے ملک میں مشہور ہیں ہم

شعر کہنے کا سوال آئے تو مجبور ہیں ہم

اپنے اشعار سمجھنے سے بھی معذور ہیں ہم

فن سے غالب کے بہت دور بہت دور ہیں ہم

اپنی شہرت کی الگ راہ نکالی ہم نے

کسی دیواں سے غزل کوئی چرا لی ہم نے


سرقۂ فن پہ سبھی صاحب فن جھوم اٹھے

شعر ایسے تھے کہ ارباب سخن جھوم اٹھے

لالہ رخ جھوم اٹھے شعلہ بدن جھوم اٹھے

شیخ جی جھوم اٹھے لالہ مدن جھوم اٹھے

کل جو قائم تھا ہمارا وہ بھرم آج بھی ہے

یعنی اللہ کا مخصوص کرم آج بھی ہے


کہیں نو سو ہمیں ملتے ہیں کہیں ڈیڑھ ہزار

چاہنے والے ہیں اتنے کہ نہیں کوئی شمار

ایک اک شعر کو پڑھواتے ہیں سب دس دس بار

یا الٰہی نہ ہو آواز ہماری بے کار

ہوگی آواز جو بے کار تو مر جائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے


روز رہتے ہیں سفر میں ہمیں سب جانتے ہیں

نازش و حافظ و خیام ہمیں مانتے ہیں

کتنے ہی غالب دوراں ہمیں گردانتے ہیں

نور بھیا ہوں کہ تاباں سبھی پہچانتے ہیں

روز ہوتے ہیں وطن میں ادبی ہنگامے

ایک دن میں کئی آ جاتے ہیں دعوت نامے


آزمایا گیا اک دن سر محفل ہم کو

جب کسی نے نہیں سمجھا کسی قابل ہم کو

لوگ کہنے لگے ہر سمت سے جاہل ہم کو

نقلی شہرت نے کچھ اتنا کیا بد دل ہم کو

دیکھتے ہیں ہمیں نفرت سے زمانے والے

مر گئے سارے ہی کیا ہم کو بلانے والے


پاپولر میرٹھی

No comments:

Post a Comment