Tuesday, 24 February 2026

زمیں پر رینگنے والوں کا کوئی گھر نہیں ہوتا

 مہاجر بچے


زمیں پر رینگنے والوں کا کوئی گھر نہیں ہوتا

نہ ماں کی چھاتیوں میں دودھ ہوتا ہے

نہ منہ پر نور ہوتا ہے

بدن پر بس خراشیں اور لہو کے داغ ہوتے ہیں

انہیں خوابوں کو آنکھوں میں بسانے کی اجازت

بھی نہیں ملتی

زباں ہوتی ہے لیکن

ظلم سہہ کر بھی نہیں ہلتی


جاویدالحسن جاوید

No comments:

Post a Comment