مہاجر بچے
زمیں پر رینگنے والوں کا کوئی گھر نہیں ہوتا
نہ ماں کی چھاتیوں میں دودھ ہوتا ہے
نہ منہ پر نور ہوتا ہے
بدن پر بس خراشیں اور لہو کے داغ ہوتے ہیں
انہیں خوابوں کو آنکھوں میں بسانے کی اجازت
بھی نہیں ملتی
زباں ہوتی ہے لیکن
ظلم سہہ کر بھی نہیں ہلتی
جاویدالحسن جاوید
No comments:
Post a Comment