بے خبری
ہفتے گزرے ہیں، سال بدلا ہے
کیا خبر کس کا حال بدلا ہے
کون آیا گیا یہ کیا جانوں
کون مانا ، نہ مانا ، کیا جانوں
کیا بتاؤں تمہیں زمانے کا
کس کے جھنڈے کا یا ترانے کا
کون کچی سڑک سے گزرا ہے
پھر وہ پکی سڑک سے گزرا ہے
کون کڑکا ہے ، کون سہتا ہے
کون خاموش ، کون کہتا ہے
کس کے محبوب نے وفا کی ہے
کس نے الفت میں پھر جفا کی ہے
کون اترا ہے پھر چنابوں میں
کون جا کر بسا خرابوں میں
کیسے کس نے کسی کو لوٹا ہے
ہاتھ کس کا کسی سے چھوٹا ہے
کیسے کوئی امیر ہونے لگا
پل میں کوئی فقیر ہونے لگا
میری اتنی نظر نہیں لوگو
مجھ کو اپنی خبر نہیں لوگو
محمد رضا نقشبندی
No comments:
Post a Comment