Thursday, 19 February 2026

اہل زر کے عتاب ہیں کیا کیا

 اہل زر کے عتاب ہیں کیا کیا

مفلسوں پر عذاب ہیں کیا کیا

روٹی کپڑا مکان علم و ہنر

زندگی تیرے خواب ہیں کیا کیا

بھوک بے کاری جبر لاچاری

عہد نو کے عذاب ہیں کیا کیا

شہر در شہر کر چلیں تاراج

شہریاروں کے خواب ہیں کیا کیا

زندگی یوں ہی خرچ کرتے رہے

کیا بتائیں حساب ہیں کیا کیا

جو نہیں جانتے ہنر کیا ہے

ان کو بخشے خطاب ہیں کیا کیا

ظرف اہل جنوں سے گھبرا کر

عقل کے پیچ و تاب ہیں کیا کیا

برق و باراں جنوں قفس صیاد

فصلِ گل کے عذاب ہیں کیا کیا

اک نئے انقلاب کی خاطر

دہع میں پیچ و تاب ہیں کیا کیا

ایک دنیا نئی کریں تخلیق

اپنی آنکھوں میں خواب ہیں کیا کیا


وقار صدیقی

No comments:

Post a Comment