Monday, 9 February 2026

چاند اپنی وسعتوں میں گم شدہ رہ جائے گا

 چاند اپنی وسعتوں میں گم شدہ رہ جائے گا

ہم نہ ہوں گے تو کہاں کوئی دیا رہ جائے گا

رفتہ رفتہ ذہن کے سب قمقمے بجھ جائیں گے

اور اک اندھے نگر کا راستہ رہ جائے گا

تتلیوں کے ساتھ ہی پاگل ہوا کھو جائے گی

پتیوں کی اوٹ میں کوئی چھپا رہ جائے گا

زرد پتوں کی طرح اک دن بکھر جائے گا تو

جا چکے موسم کو تنہا سوچتا رہ جائے گا

شہر ویراں میں ہزاروں خواب لے کر اک دیا

زد پہ طوفانوں کی ہو گا اور جلا رہ جائے گا

ڈوبتے تاروں کی صورت کچھ لکیریں چھوڑ کر

میرے ہونے اور نہ ہونے کا سرا رہ جائے گا

آندھیاں کر دیں گی گل عشرت فصیلوں کے چراغ

اک دیا لیکن تمنا کا جلا رہ جائے گا


عشرت رومانی

No comments:

Post a Comment