روشنی ہو نہ سکی شام کے ہنگام کے ساتھ
اور ہم دِیپ جلاتے رہے ہر شام کے ساتھ
دور بڑھتا ہی گیا حسرت ناکام کے ساتھ
دل میں اک ٹِیس اٹھی آپ کے ہنگام کے ساتھ
آپ نے پُرسش غم کا بھی تکلف نہ کیا
دل میں ہم جلتے رہے حسرت ناکام کے ساتھ
جانے کیوں آج مِرے عشق کی تشہیر ہوئی
ہر زباں پر ہے مِرا نام تیرے نام کے ساتھ
دور مے ختم ہوا شمع کا دل بیٹھ گیا
رونق بزم گئی ساقیٔ گلفام کے ساتھ
وقت کی بات ہے کیا وقت گزر جائے گا
اور کچھ دیر چلو گردش ایام کے ساتھ
منزل عشق میں کیا کام تھا ان کا ہمدم
تھک کے جو بیٹھ گئے راہ میں آرام کے ساتھ
بلدیو سنگھ ہمدم
No comments:
Post a Comment