منسوب تھے جو عہد جدائی کے باب سے
ہم نے ورق وہ پھاڑ دئیے ہیں کتاب سے
یوں جھانکتے ہیں آپ کے جلوے نقاب سے
جیسے شعاعیں مہر کی پھوٹیں سحاب سے
زہراب دے کے قتل کے مجرم نہ تم بنو
ہم بادہ خوار ہیں، ہمیں مارو شراب سے
یہ رنگ، یہ بہار، یہ مہکی ہوئی فضا
دنیا جوان ہے تِرے عہدِ شباب سے
پاسِ وفا نے اِذنِ شکایت نہ دہ مگر
دل مطمئن نہیں تھا تمہارے جواب سے
روشن کسی کے عشق میں یہ اپنا حال ہے
ناکامیاب ہو کے بھی ہیں کامیاب سے
روشن لال روشن
No comments:
Post a Comment