Monday, 23 February 2026

منسوب تھے جو عہد جدائی کے باب سے

 منسوب تھے جو عہد جدائی کے باب سے

ہم نے ورق وہ پھاڑ دئیے ہیں کتاب سے

یوں جھانکتے ہیں آپ کے جلوے نقاب سے

جیسے شعاعیں مہر کی پھوٹیں سحاب سے

زہراب دے کے قتل کے مجرم نہ تم بنو

ہم بادہ خوار ہیں، ہمیں مارو شراب سے

یہ رنگ، یہ بہار، یہ مہکی ہوئی فضا

دنیا جوان ہے تِرے عہدِ شباب سے

پاسِ وفا نے اِذنِ شکایت نہ دہ مگر

دل مطمئن نہیں تھا تمہارے جواب سے

روشن کسی کے عشق میں یہ اپنا حال ہے

ناکامیاب ہو کے بھی ہیں کامیاب سے


روشن لال روشن

No comments:

Post a Comment