جب جیب سے رقمیں لینی تھیں اور جیل کا خوگر ہونا تھا
پھر تو پک پاکٹ کے بدلے قوم کا لیڈر ہونا تھا
جب مقصد سیر و سواری ہے پھر میرج کی حاجت ہی کیا
بے کار بنے اس مس کے شوہر، کار کا شوفر ہونا تھا
اس مس کی سانولی صورت کی کچھ اور بھی قلعی کھل جاتی
غازہ کے عوض مَلنے کے لیے اس رخ پر پوڈر ہونا تھا
باریک عبائے ریشم سے چھپنے کا نہیں یہ زورِ دریا
ان عیبوں کی پردہ پوشی کو اے واعظ کھدر ہونا تھا
مردانہ صورت و سیرت کی کیا کہیے ذلت و رسوائی
ہے سیفٹی ریزر ان ہاتھوں میں جن میں خنجر ہونا تھا
جب قدر کوئی کرتا ہی نہیں پھر پنڈت و ملا کیا کرتے
لڑوا کے انہیں دو قوموں کو اک قوم کا لیڈر ہونا تھا
انجم مانپوری
نور محمد
No comments:
Post a Comment