عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نہیں کافی سلیقہ نعت میں، بس خوش بیانی کا
مرے آقاﷺ عطا ادراک ہو، لفظ و معانی کا
جھڑی ایسی لگی، آقاؐ کی رحمت جوش میں آئی
نصیبہ کھل گیا پل میں، مری آنکھوں کے پانی کا
وہ راحت پائی ہے اس نے درِ سرکارؐ پر آ کر
نہیں کوئی ارادہ دل کا اب نقلِ مکانی کا
درِ آقاﷺ پہ میری زندگی آغاز ہو یا رب
اسی در پر ہی پھر انجام ہو میری کہانی کا
ہے ذکرِ مصطفیٰؐ، سانسوں کے چلنے کا سبب نسریں
انہی کا نام باعث ہے لہو میں اس روانی کا
نسرین سید
No comments:
Post a Comment