Saturday, 7 February 2026

وہ جدھر سے گزر کے جاتے ہیں

 وہ جدھر سے گزر کے جاتے ہیں

بن کے خوشبو بکھر کے جاتے ہیں

چاند بھی سر پٹکنے لگتا ہے

جب وہ سج کے سنور کے جاتے ہیں

میں نشے میں بہکنے لگتا ہوں

پیالے آنکھوں سے بھر کے جاتے ہیں

ماں کے پیروں میں دیکھ لی جنت

لوگ جنت میں مر کے جاتے ہیں

ان سے پوچھو کبھی نیازی میاں

کیوں وہ دیوانہ کر کے جاتے ہیں


طارف نیازی

No comments:

Post a Comment