Wednesday, 4 February 2026

میں ہوں فلک کا مسافر سفر میں سورج ہے

 میں ہوں فلک کا مسافر سفر میں سورج ہے

قدم قدم پہ مری رہگزر میں سورج ہے

تمام چہرے جہاں میں اسی کے مظہر ہیں

گزرتے وقت کی شام ع سحر میں سورج ہے

ہے فکر و فہم میں اک آسماں اجالوں کا

حصارِ شب میں ہوں لیکن نظر میں سورج ہے

عبث ہے اونچی عمارت میں روشنی کی تلاش

چھپا ہوا سبھی مٹی کے گھر میں سورج ہے

جو اس زمیں پہ بظاہر اسیرِ ظلمت ہے

ہر اس مکان کی دیوار و در میں سورج ہے

ہے اس کی جھاؤں میں اک روشنی کی جھیل مراق

ہمارے گاؤں کے بوڑھے شجر میں سورج ہے


مراق مرزا

سورج کے آس پاس

No comments:

Post a Comment