میں ہوں فلک کا مسافر سفر میں سورج ہے
قدم قدم پہ مری رہگزر میں سورج ہے
تمام چہرے جہاں میں اسی کے مظہر ہیں
گزرتے وقت کی شام ع سحر میں سورج ہے
ہے فکر و فہم میں اک آسماں اجالوں کا
حصارِ شب میں ہوں لیکن نظر میں سورج ہے
عبث ہے اونچی عمارت میں روشنی کی تلاش
چھپا ہوا سبھی مٹی کے گھر میں سورج ہے
جو اس زمیں پہ بظاہر اسیرِ ظلمت ہے
ہر اس مکان کی دیوار و در میں سورج ہے
ہے اس کی جھاؤں میں اک روشنی کی جھیل مراق
ہمارے گاؤں کے بوڑھے شجر میں سورج ہے
مراق مرزا
سورج کے آس پاس
No comments:
Post a Comment