Sunday, 1 February 2026

یہ مصلحت اندیش کرم یاد رہے گا

 یہ مصلحت اندیش کرم یاد رہے گا

ساقی تری نظروں کا بھرم یاد رہے گا

غم یاد رہے گا نہ الم یاد رہے گا

اک حاصل غم ربط بہم یاد رہے گا

بتخانے کی عظمت کا پتہ جس سے ملا ہے

وہ حادثۂ دیر و حرم یاد رہے گا

ہے اہل محبت کے لیے کعبۂ مقصد

وہ شوخ طرحدار صنم یاد رہے گا

اس آنکھ میں آنسو تھے کہ پیغام تباہی

احساس گنہ گاریٔ غم یاد رہے گا

اس شوخ کی نظروں کو نہ بھولے گی یہ محفل

میرا دل دیوانہ ہی کم یاد رہے گا

بے مہریٔ دلدار بھلا سکتا ہے لیکن

باسط کو وفاؤں کا بھرم یاد رہے گا


باسط اوجینی

محمد خاں

No comments:

Post a Comment