یہ مصلحت اندیش کرم یاد رہے گا
ساقی تری نظروں کا بھرم یاد رہے گا
غم یاد رہے گا نہ الم یاد رہے گا
اک حاصل غم ربط بہم یاد رہے گا
بتخانے کی عظمت کا پتہ جس سے ملا ہے
وہ حادثۂ دیر و حرم یاد رہے گا
ہے اہل محبت کے لیے کعبۂ مقصد
وہ شوخ طرحدار صنم یاد رہے گا
اس آنکھ میں آنسو تھے کہ پیغام تباہی
احساس گنہ گاریٔ غم یاد رہے گا
اس شوخ کی نظروں کو نہ بھولے گی یہ محفل
میرا دل دیوانہ ہی کم یاد رہے گا
بے مہریٔ دلدار بھلا سکتا ہے لیکن
باسط کو وفاؤں کا بھرم یاد رہے گا
باسط اوجینی
محمد خاں
No comments:
Post a Comment