جنت آباد کو ویران کرتے جائیں گے
گلستاں کو پاسباں شمشان کرتے جائیں گے
خانۂ جنت میں آدم زاد کا مسکن نہ ہو
اس غرض سے خود کو وہ شیطان کرتے جائیں گے
تم لگا کر آگ گلشن کو بھلے کر دو تباہ
ہم تو آتشدان کو گلدان کرتے جائیں گے
موت بھی پرچھائی بن کر سامنے جب آئے گی
رفتہ رفتہ اس کو اپنی جان کرتے جائیں گے
پرچم کردار کو اپنے اگر کر لیں بلند
پھر تو ہم ابلیس کو انسان کرتے جائیں گے
اس گھڑی کیا خوب منظر ہو گا سب کے سامنے
خود کو جب ان کے لیے قربان کرتے جائیں گے
پر تجلی رخ پہ ان کے پیاسی نظریں ڈال کر
ہم تو اپنی آنکھ کو ہلکان کرتے جائیں گے
کہہ کے ان کے حسن پر تسنیم اک تازہ غزل
حور اور پریوں کو بھی حیران کرتے جائیں گے
کوثر تسنیم سپولی
No comments:
Post a Comment