Monday, 2 February 2026

جنت آباد کو ویران کرتے جائیں گے

 جنت آباد کو ویران کرتے جائیں گے

گلستاں کو پاسباں شمشان کرتے جائیں گے

خانۂ جنت میں آدم زاد کا مسکن نہ ہو

اس غرض سے خود کو وہ شیطان کرتے جائیں گے

تم لگا کر آگ گلشن کو بھلے کر دو تباہ

ہم تو آتشدان کو گلدان کرتے جائیں گے

موت بھی پرچھائی بن کر سامنے جب آئے گی

رفتہ رفتہ اس کو اپنی جان کرتے جائیں گے

پرچم کردار کو اپنے اگر کر لیں بلند

پھر تو ہم ابلیس کو انسان کرتے جائیں گے

اس گھڑی کیا خوب منظر ہو گا سب کے سامنے

خود کو جب ان کے لیے قربان کرتے جائیں گے

پر تجلی رخ پہ ان کے پیاسی نظریں ڈال کر

ہم تو اپنی آنکھ کو ہلکان کرتے جائیں گے

کہہ کے ان کے حسن پر تسنیم اک تازہ غزل

حور اور پریوں کو بھی حیران کرتے جائیں گے


کوثر تسنیم سپولی

No comments:

Post a Comment