Sunday, 1 February 2026

لطف غیروں پہ عام ہوتے ہیں

 لطف غیروں پہ عام ہوتے ہیں

ظلم ہم پر تمام ہوتے ہیں

یار ہونے کو عام ہوتے ہیں

نفس کے سب غلام ہوتے ہیں

زندگی سے جو پیار کرتے ہیں

موت سے ہمکلام ہوتے ہیں

دیکھیے کیا ہو دستِ گلچیں سے

آج کل انتظام ہوتے ہیں

ان کے اک دلنشیں تبسم سے

سارے شکوے تمام ہوتے ہیں


اصغر علی تبسم

No comments:

Post a Comment