لطف غیروں پہ عام ہوتے ہیں
ظلم ہم پر تمام ہوتے ہیں
یار ہونے کو عام ہوتے ہیں
نفس کے سب غلام ہوتے ہیں
زندگی سے جو پیار کرتے ہیں
موت سے ہمکلام ہوتے ہیں
دیکھیے کیا ہو دستِ گلچیں سے
آج کل انتظام ہوتے ہیں
ان کے اک دلنشیں تبسم سے
سارے شکوے تمام ہوتے ہیں
اصغر علی تبسم
No comments:
Post a Comment