دل بے تاب کا آنا ستم ہے
تڑپ کر پھر مچل جانا ستم ہے
مجھے سمجھا رہی ہے غیرت دل
وفا سے تیرا پھر جانا ستم ہے
وہ رہ کر چٹکیاں لیتے ہیں کیا کیا
ستم ہے دل میں بھی آنا ستم ہے
مری ناکامیاں یہ کہہ رہی ہیں
نقوش غم کا مٹ جانا ستم ہے
مٹی جاتی ہیں میری آرزوئیں
کسی کو راہ پر لانا ستم ہے
کتاب عشق کو کرتا ہوں میں جمع
ورق کا اب بکھر جانا ستم ہے
کہیں راز محبت کھل نہ جائے
زباں پر نام کا لانا ستم ہے
پھنسا کیوں میں فریبِ آرزو میں
ادا کے پھیر میں آنا ستم ہے
کبھی رقصاں تھیں جن آنکھوں میں الفت
ان آنکھوں کا بدل جانا ستم ہے
جفا جب حاصلِ الفت ہے اے دل
وفا کے پھیر میں آنا ستم ہے
وفا براہی
No comments:
Post a Comment