Wednesday, 4 February 2026

دل بیتاب کا آنا ستم ہے

 دل بے تاب کا آنا ستم ہے

تڑپ کر پھر مچل جانا ستم ہے

مجھے سمجھا رہی ہے غیرت دل

وفا سے تیرا پھر جانا ستم ہے

وہ رہ کر چٹکیاں لیتے ہیں کیا کیا

ستم ہے دل میں بھی آنا ستم ہے

مری ناکامیاں یہ کہہ رہی ہیں

نقوش غم کا مٹ جانا ستم ہے

مٹی جاتی ہیں میری آرزوئیں

کسی کو راہ پر لانا ستم ہے

کتاب عشق کو کرتا ہوں میں جمع

ورق کا اب بکھر جانا ستم ہے

کہیں راز محبت کھل نہ جائے

زباں پر نام کا لانا ستم ہے

پھنسا کیوں میں فریبِ آرزو میں

ادا کے پھیر میں آنا ستم ہے

کبھی رقصاں تھیں جن آنکھوں میں الفت

ان آنکھوں کا بدل جانا ستم ہے

جفا جب حاصلِ الفت ہے اے دل

وفا کے پھیر میں آنا ستم ہے


وفا براہی

No comments:

Post a Comment