Wednesday, 4 February 2026

کس کو سنائیں اور کہیں کیا کسی سے ہم

 کس کو سنائیں اور کہیں کیا کسی سے ہم

سب کچھ لٹا کے بیٹھ گئے ہیں ابھی سے ہم

اپنی ہی کچھ خبر ہے نہ دنیا سے واسطہ

رہتے ہیں سب کے ساتھ مگر اجنبی سے ہم

یوں تو چراغ ہم نے بہت سے جلائے تھے

محروم پھر بھی رہتے رہے روشنی سے ہم

اسرار حسن و عشق کو ظاہر بھی کیوں کریں

کہنے کی بات ہو تو کہیں ہر کسی سے ہم

ہر شعر اپنا آئینۂ حسن و عشق ہے

بس لطف لیتے رہتے ہیں اب شاعری سے ہم

پہلے زبان غیر میں کرتے تھے شاعری

اردو میں شعر کہتے ہیں اب آگہی سے ہم

دل اتنا بجھ گیا ہے غموں سے کہ اے عزیز

جینے کو جی رہے ہیں مگر بے دلی سے ہم


عزیز مرادآبادی

No comments:

Post a Comment