مسیحا
لکھتے لکھتے
انگلیوں کی وہ نرم پوریں
ٹیڑھی میڑھی سی
اور سخت ہو گئی ہیں
پڑھتے پڑھتے
چمکتی آنکھوں کے خواب دُھندلا کے
کھو گئے ہیں
دوائیوں سے ملی
بے خبر نیند
دیکھنے دے
تو خواب دیکھوں
کہ سرخ پتے میں لپٹی ہلکی گلابی گولی
میری مسیحا بنی ہوئی ہے
صبا خان
No comments:
Post a Comment