Thursday, 12 February 2026

بے خیالی میں نہ جانے کیا سے کیا لکھتی رہی

 بے خیالی میں نہ جانے کیا سے کیا لکھتی رہی

ایک پتھر کو محبت کا خدا لکھتی رہی

بارہا مظلوم غنچوں کو تڑپتا دیکھ کر

زرد پتوں پر لہو سے کربلا لکھتی رہی

کارواں لٹنے پہ اب خود سے بہت بیزار ہوں

جانے کیوں میں رہزنوں کو رہنما لکھتی رہی

وہ سر بازار سودائے وفا کرتا رہا

نام جس کا میں ہمیشہ با وفا لکھتی رہی

بے بسی کی شام کو جب مختصر لکھنا پڑا

درد کے صحرا میں شام کربلا لکھتی رہی

سنگ سے بھی سخت نکلا آخرش وہ دل بہت

عمر بھر جس کو شبینہ آئینہ لکھتی رہی


شبینہ آرا

No comments:

Post a Comment