Sunday, 22 February 2026

زندگی گلشن میں بھی دشوار ہے تیرے بغیر

 زندگی گلشن میں بھی دشوار ہے تیرے بغیر

اس چمن کا پھول بھی اک خار ہے تیرے بغیر

زندگانی عشق کی ناکامیوں میں صرف کی

زندگی کا لطف بھی دشوار ہے تیرے بغیر

تیری صورت سامنے ہوتی تو میں کہتا غزل

مجھ پہ ذوق شاعری اک بار ہے تیرے بغیر

ساقیا جب تو نہیں میں نے بھی چھوڑی مے کشی

مے کدے سے مے سے بھی انکار ہے تیرے بغیر

کس کی صورت دیکھ کر پائے قرار و چین دل

عید بھی صدیق کی بے کار ہے تیرے بغیر


صدیق احمد نظامی بچھرایونی

No comments:

Post a Comment