تِرے عشق نے دیا ہے وہ مقام خسروانہ
ہے جہاں جنوں حقیقت ہے جہاں خرد فسانہ
یہ ہنوز کہہ رہا ہے سرِ راہ اک دِوانہ
کوئی جا کے ان سے کہہ دے مِری عرض خادمانہ
وہ رفو نظر سے کرنا مِری چاک دامنی کو
تِری آنکھ کو مِلا ہے یہ ہنر رفو گرانہ
یہ فلک کے چاند تارے ہیں بجھے بجھے سے سارے
میں سنا رہا ہوں ان کو شب ہجر کا فسانہ
یہ جبیں مچل رہی ہے کہ تڑپ رہے ہیں سجدے
مجھے کر رہی ہے کافر تِری چشم قاتلانہ
ذیشان نیازی
No comments:
Post a Comment