Monday, 9 February 2026

بتوں کے شہر میں موجود تھا خدا کوئی

 مجھی سے پوچھ رہا تھا مِرا پتا کوئی

بتوں کے شہر میں موجود تھا خدا کوئی

خموشیوں کی چٹانوں کو توڑنے کے لیے

کسی کے پاس نہیں تیشۂ صدا کوئی

 درخت ہاتھ اٹھا کر سلام کرتے تھے

مِرے جنوں کا مبارک تھا مرحلہ کوئی

سمجھ سکا نہ مگر کوئی پتھروں کی زباں

ہر ایک لمحہ لگا بولتا ہوا کوئی

یہ بند لب ہیں کہ کوئی کھلی ہوئی سی کتاب

مِرے سوال پہ اس دم تو بولتا کوئی

ورق پہ رات کے لکھی ہے صبح کی تحریر

یہ ایک وقت ہے بے رنگ و نور سا کوئی

نہ حرف حرف ہوا عکس گفتگو میرا

سمجھنا چاہو تو لے آؤ آئینہ کوئی

ہر ایک ذہن میں اپنے ہی بند ہیں ماجد

فضا کو خول سے باہر ہے راستہ کوئی


ماجد الباقری

No comments:

Post a Comment